Posts

Showing posts with the label urdu story

The Flip Side | Ghar Bhi Jungle Ho Jatay Hain

Image
گھر بھی جنگل ہو جاتے ہیں  میرے جسم میں متعدد گولیاں  راستہ بنا چکی ہیں اور کسی بھی لمحے فرشتہ اجل آیا چاہتا ہو گا. میری آنکھوں کے آگے گزری زندگی کے لمحات ایسے گزر رہے ہیں جیسے کوئی فلم ریورس میں چلا دی گئی ہو. میں نے جس خطّے میں جنم لیا وہ سرسبز پہاڑوں، خوبصورت جھیلوں اور گنگناتے جھرنوں میں گھرا ہوا تھا. صبح سورج نکلنے کا منظر انتہائی دلکش ہوتا. یوں لگتا جیسے نور کی چادر تان دی گئی ہو اور ہر شے نکھر جاتی. بارش آے دن ہوتی. سبزہ دھل کر اور بھی حسین لگتا. یہاں زیادہ تر لوگوں کی بود و باش کا انحصار ان جانوروں پر تھا جنھیں وہ گھروں میں پالتے تھے. سبز میدانوں میں سفید بکرے بکریاں چلتے یوں نظر آتے جیسے یہ بھی برف کے ساتھ آسمان سے برسے ہوں. جھیلوں کا پانی اس قدر صاف کہ مچھلیاں باہر سے ہی دکھتی تھیں.چاندنی راتوں میں یوں لگتا جیسے چاند کی کرنیں ہم سے باتیں کررہی ہوں  کہ کس قدر خوش نصیب ہو تم لوگ کہ قدرت کے ان حسین مناظر میں رہتے ہو. ہمارا دیس دنیا میں جنّت کا سا منظر پیش کرتا تھا. ہمارا گھرانہ اپنے علاقے کا متمول گھرانہ تھا. ...

The Flip Side | Mohabbat aur Milkiyat

Image
محبت اور ملکیت   ہمارے گھر خوشیاں بارش کی طرح برس رہی تھیں. میری شادی کے پانچ سال بعد الله نے مجھے "خوشخبری" سے نوازا تھا. خوش ہونا توفطری تھا، مگر پانچ سال کی تاخیر نے اس خوشی کو کئی اضافی چاند لگا دیے تھے. اسکے باوجود میرے اندر ایک ڈر پل رہا تھا کہ بچے کی پیدائش کے بعد بڑھتے ہوے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ حالانکہ میں ایک پرائیویٹ فرم میں ایکسپورٹ انچارج تھا لیکن دل خدشات میں گھرا رہتا کہ اتنی بڑی ذمہ داری کو میں کیسے نبھاؤں گا. اسکے ساتھ ساتھ کچھ خواب بھی تھے کہ اگر بیٹا ہوا تو اسکو کیسے پالنا ہے اور بیٹی کو کیونکر پالا جائے. گردش دوراں نے اس خوشخبری کو ایک صحت مند اور خوبصورت بیٹے کی شکل دی جسکا نام میں نے محمّد احمد رکھا. جب خبریں حقیقت بنیں تو خدشات بھی انکی دمک میں مدھم پڑ گئے. میری آمدن کے ساتھ مجھے والدین کی مالی مدد بھی حاصل تھی. تاہم سب کچھ احسن طریقے سے چلتا رہا. میں جیسے ہی دفتر سے گھر جاتا، احمد کے ساتھ کھیلنے لگ جاتا. وہ بھی مجھ سے بہت مانوس تھا. مجھے دیکھتے ہی میری طرف لپکتا. وہ دن میں کیسے بھول سکتا ہوں جب اسنے مجھے پہلی دفع "باب...

The Flip Side | Simal

Image
سمل   "کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟" وہ کہتی: "نہیں". اس کی آنکھیں اس کی آواز کا ساتھ نہ دیتیں. میرا یہ سوال اور اسکا مستقل ایک ہی جواب ہماری گفتگو کا ایک لازمی جزو تھا. میرا نام عامر ہے اور اس وقت میں آرکٹیکٹ انجینرنگ کے دوسرے سال میں تھا جب وہ فرسٹ ایر میں نئی نئی آئ تھی. نوٹس کے تبادلے سے شروع ہونے والی یہ دوستی اب کسی اور ہی جانب گامزن تھی. اسکا نام سمل تھا. وہ دراز قد، سفید رنگت ، ستواں ناک اور لمبے گھنے بالوں کے ساتھ کسی ملک کی شہزادی معلوم پڑتی تھی. جبکہ میں ایک عام سی شکل کا باتونی لڑکا تھا.لیکن وہ مجھے ہمیشہ یہ کہتی تھی کہ مجھے ظاہری خوبصورتی سے کوئی غرض نہیں ہے. مجھے یوں لگتا تھا کہ گویا ہم کبھی ایک ہی روح تھے جسکو دو جسموں میں بانٹ دیا گیا ہو. میرے دل کی باتیں وہ یوں جان لیتی جیسے وہ اسکے سامنے ایک کھلی کتاب ہو. اور اسکی شکل دیکھ کر میں بھانپ لیا کرتا تھا کہ وہ خوش ہے یا پریشان.  ہماری دوستی کے چرچے پوری یونیورسٹی میں تھے. چونکہ وہ اور لڑکوں کو منہ نہ لگاتی تھی تو کافی لڑکے مجھ سے جلتے بھی تھے. ہم دونوں متوسط طبقوں س...

The Flip Side | Yaadgaar

Image
یادگار   بازار کی چہل پہل دیکھ کے کسی میلے کا گماں ہوتا تھا. بازار میں دکانیں تھیں جہاں مختلف اشیاء کی خرید و فروخت سرعت سے جاری تھی. ریاست کے دور دراز علاقوں سے لوگ بازار کی رونق دیکھنے آیا کرتے تھے. یہ بازار ریاست جوناگڑھ کا زیور تھا. جوناگڑھ ایک آزاد، خودمختار اور مضبوط ریاست تھی جسکا الحاق دہلی کے تخت سے تھا.اسکا  اپنا راجہ، روپیہ اور فوج تھی. اس ریاست میں اتالیق کے منصب پر فائز تھے جناب راے بہادر. راے بہادر ایک بھاری بھرکم وجود کے مالک، بارعب انسان تھے اور ایسے نشانچی کہ پوری ریاست میں انکے  ایسا نہ تھا.  ریاست کے شمال مشرقی حصّے میں فوج کے سپاہیوں کے لئے ایک شاندار بستی قائم کی گئی تھی. راے بہادر اور انکا خاندان بھی یہیں رہائش پذیر تھا. فوج کے سپاہیوں کو رعایا میں بہت عزت اور احترام حاصل تھا، اور راے بہادر کی  اس فوج میں بے انتہا عزت تھی. متعدد سپاہی انکے شاگرد اور گرویدہ تھے. راے بہادر کی شادی کے پندرہ سال بعد بھی انکا ایک ہی بیٹا تھا جسکا نام انہوں نے نہایت چاہ کے ساتھ بہرام خان رکھا تھا.بہرام ایک خوبصورت، گول مٹول، سرخ و سپید ب...